عمل سے عاری وحدت امت کے نعرے
نقاش نائطی
۔ +966562677707
“وحدت امت کا صدا راپ الاپتے والے سنی شیعہ علماء کرام ہی امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیرنے کے موجب بنا کرتے ہیں”
وقفہ وقفہ سے اپنی بات بدلنے والے جھوٹوں کے سردار کی باتیں تو خدائی حکم کی طرح سر آنکھوں پر رکھی جاتی ہیں لیکن اپنے ایمانی بھائی ایرانی شیعہ کو غلط ٹہرانے, ہزار تاویلات پیش کئے جاتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق سے فلاں فلاں کے اقوال ڈھونڈ لائے جاتے ہیں۔ اگر ایرانی شیعہ اتنے ہی برے اور لااعتباری ہیں اور ابتدائی تین خلفائے راشدین کے خلاف انکا ہتک آمیز عمل, انہیں خارج اسلام ثابت کرنے کافی ہے تو, جمہور علماء حق کا فتوہ سامنے لایا جائے, ہمیں معلوم ہے دارالعلوم دیوبند نے شیعہ برداری کو کافر قرار فتوہ دیا تھا, لیکن یہ فتوہ صرف اور صرف مقلدین احناف کے ایک طبقہ کے لئے لائق احترام ہےاور ایسے پوچھے گئے سوال پر, ہر کسی طبقہ یا تفکر کو کافر قرار دئیے جاتے,
اتنے سارے فتوے سامنے آچکے ہیں کہ, اب ہم مسلم امہ میں, مسلمان کون باقی بچے ہیں؟ یہ فتوہ سامنے لایا جانا باقی رہ گیا ہے۔ جمہور علماء حق کا مطلب مختلف مکاتب فکر کے مختلف اسلامی ملکوں کے علماء پر مشتمل مشترکہ فتوہ ہے جو تمام امت مسلمہ کے لئے لائق عمل ہوتا ہے جیسا کہ آحمدیہ قادیانی فرقہ کو, اسی کے دہے میں صدر پاکستان المتوفی جنرل ضیاء الحق علیہ الرحمہ نے, عالم اسلام مملکت سعودی عربیہ, سوڈان الجیریاجیسے مختلف ممالک کے علماء و شیوخ کے مشترکہ اجتماعی علماء حق تفکر پر,مشتمل احمدیہ قادیانی فرقے کو گمراہ اور خارج الاسلام قرار دیا تھا۔کیا ایسا کوئی شیعہ ایران کے خلاف انہیں کافر قرار دیا گیا, کوئی فتوہ ہے؟ اور اگر ہے تو سامنے لایا جائے
اور اگرنہیں پے تو ہر کسی کو اپنے مطلب کے لئے کافر قرار دینے والا یہ امت مسلمہ کا, مختلف فرقوں میں بانٹتا تکفیری رویہ, مسلم امہ کو بالکیہ ترک کردیا جانا چاہئیے۔ اور یہ بات یاد رہے کمزور سے کمزور ایمان والا اپنا بھائی, بڑے سے بڑے اہم ترین مشرک یہود ونصاری پر بھاری اور لائق مدد و نصرت ہوتا ہے۔ رہی بات شیعہ ایران کے بعض فرقوں کی طرف سے, اہل بیت پر نازیبا قولی وعملی حرکات کی, تو اہل بیت ہی کے سب سے بڑے خود ساختہ رکھشک اہل سنہ والجماعہ بریلوی فرقے کی طرف سے خاتم الانبیاء سرور کونین محمد مصطفیﷺ کے قول و عمل, کتنی گستاخیاں, و مشرکانہ عمل سامنے آتے رہتے ہیں, تو کیا تمام بریلوی تفکر ماننے والوں کو ہی کافر قرار دیا جائیگا؟ وہ بھی اس پس منظر میں سابقہ 37 لمبے سالوں سے پورے ایران کے مشترکہ مذہبی پیشوا مشہور, ساڑھے نو کروڑ ایرانیوں کے سب سے
زیادہ معتبر اور سیاسی مذہبی اعتبار طاقتور ور ترین رہنما, علی خامنہ ای کے مندرجہ ذیل مشہور ترین فتوے بعد, اپنے ایمانی جہادی جذبات سے سرشار میدان حرب و جنگ یہود و نصاری مشترکہ حربی عالمی قوتوں کو, شکست فاش دینے والے ایرانی بھائیوں کو, ہزار تاویلات سے, خارج الاسلام قرار دینے والوں کو,اپنے ایمان تکمیل حفاظت کی فکر کرنی چاہئیے۔ نہ کہ فی زمانہ امت مسلمہ کو,عالمی یہود و نصاری اسلام دشمن قوتوں سے آمان دلانے والے ایرانی شیعہ بھائیوں کو خارج الاسلام کہیں! کہاں کہاں کے اقوال کو ڈھونڈ ڈھونڈ سامنے لاتے یہود و شیعہ فرقے کو بھائی بھائی کہتے,
اپنے ایرانی بھائیوں کو, عالم انسانیت کے سب سے بڑے اعلانیہ فسادی لاکھوں معصوم فلسطینی لبنانی مسلم بھائی بہنوں بچوں کے قاتل یہود کے پالے میں, اپنے جہادی جذبات سے سرشار یہود و نصاری اسلام دشمنون سے اعلانیہ لڑی جانے والے یا اسرائیل و امریکہ کی طرف سے ان پر سازشا” تھوپی گئی عالمی جنگ میں شہید ہونے والے ایرانیوں کو رکھنا, کہاں کی عقل مندی ہے؟
کچھ مہینے پہلے ہوئی اسرائیل ایران جھڑپ میں ایران کی طرف سے اسرائیل پر داغے گئے تباہ کن میزائیل و ڈرون برسات کو بھی, ایرانی دھوکہ تماشا قرار دئیے ایران اسرائیل اتحادی ملے ہوئے ہیں یہ الزام ایران پر ڈالنے والے, خود ساختہ سنی مسلم حربی تجزیہ نگار, اب کہاں ہیں؟ جب ایرانی میزائیل و ڈروں کی ہلاکت خیز بارش نے،
اپنے وقت کے سب سے ترقی یافتہ اور محفوظ ترین, ترقی پزیر اسرائیل کو,ہتھیار تو دور کی بات اسرائیلی اجازت بغیر کھانا پانی دوائی تک لانےلیجانے کی اجازت سے محروم رکھے گئے, عالم کی سب سے بڑی کھلی جیل محصور غازہ کے بیس تا تئیس لاکھ فلسطینیوں کے گھروں مدرسوں مسجدوں و شفاخانون تک اسرائیلی بمباری تاراج کئے جیسا ہی, اب انتالیس دنوں کی ایرانی میزائیل و ڈرون بمباری سے پورے اسرائیلی شہروں کو غازہ جیسا کھنڈر بنائے جانے پر بھی, وہ سنی حربی تجزیہ نگار اب کیا کہتے ہیں۔ان تباہ کاریوں کی تو چھوڑیے اسرائیل و امریکہ حربی اعتبار عالم عرب و عالم اسلام کے لئے لاتسخیر سمجھے جانے والے امریکی توقیریت ھیجےمنی کو ,ایک بھی عالمی معیار جنگی فائٹر پلین ماورائیت باوجود, سابقہ انتالیس دنوں والی صرف ایرانی ڈرون و میزائل برسات سے, مشترکہ اسرائیل و امریکہ کو شکشت فاش کھاتے, انکے اپنے تفکری ایجنٹ اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کی منت و سماجت کئے, اسلام آباد جنگ بندی سمجھوتہ میز تک لپکتے صاحب امریکہ کے, توقیریت ھیجے منی کھوتے پس منظر کے بارے میں کیا کہا جائیگا؟
صاحب امریکہ کی یہ آخری لمحات تک مختلف انداز و طریقوں سے, اپنی حربی برتری توقیریت ھیجے منی, دکھا ڈرا دھمکا, ایران اسرائیل جنگ سے خود کو عزت سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کرتے, اسکے اپنے کر و فر سے, امت مسلمہ کو گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ انہیں اس بات کا قوی یقین ہونا چاہئیے کہ جب تک مسلمان اپنے کمزور تر ایمانی قوت باوجود, جب اپنی جہادی جذبات سے سرشار مشرکانہ و کافر قوتوں سے نبزد آزما ہوتے ہیں تو تعداد افواج و جنگی مشین برتری و تنزلی باوجود, مسلمان اپنے جہادی جذبات, ہر حرب و جنگ فتح یاب ہوتے پائے جاتے ہیں۔ اس کی بیسیوں تمثیل تیرہ سو سالہ اسلامی خلافت جنگ و حرب تاریخ میں بھری پائی جاتی ہیں
رہی بات اب یہ اسرائیل و امریکہ کی ایران پر زبردستی نازل کی گئی اسلام دشمن جنگ, کیا رخ اختیار کرے گی؟ اور کن نتائج پر منتج ہوگی؟ بھلے ہی اس بارے میں حتمی طور کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن اپنے تجربات کی روشنی میں, اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔ ہم نے اپنے متعدد لکھے اور چھپے مقالوں میں, اس طرف بارہا اشارے کئے ہیں اور اسرائیل قیادت کی طرف سے وقت وقت سے برملا کئے گئے اعلانات, اس طرف اشارے کرتے ہیں کہ, ایران و امریکہ کی طرف سے ایران پر لادی گئی یہ جنگ بھی, وہی ایک نکاتی امریکہ و اسرائیلی ایجنڈے کو عالمی نقشہ پر عملا” تکمیل کے مراحل تک پہنچانے ہی کے لئے شروع کی گئی ہے
۔اسی کے دہے تک اشتراکی حربی عالمی قوت, یو ایس ایس آر کے, اسکے افغانستان یلغار لغزش بعد, یہود و نصاری ایجنڈے ہی پر عمل پیرا, انکے اپنے قائم کردہ القاعدہ کے بینر تلے, ہم عرب و اسلامی ممالک مشترکہ حربی گٹھ جوڑ, مجاہدانہ عملی سرگرمیوں سے, امریکہ کے مقابلے یوایس ایس آر کو افغانستان شکشت فاش دیتے, اس وقت تک کے عالمی اشتراکی قوت کو مختلف ٹکروں میں بانٹ دئیے جاتے, یو ایس ایس آر عالمی قوت خاتمے بعد۔ عالم اسلام دشمن یہود و نصاری سازش کنان نے,اسکے اپنے حربی شریک اسامہ بن لادن والی مسلم جہادی قوتوں کے ساتھ کیا کچھ کیا تھا؟ یہ تو اب سب کچھ مسلم امہ کے سامنے ہے
یہود و نصاری اسلام دشمن قوتوں نے, خود اپنے ہی سازش کردہ خود ساختہ نائن ایلون امریکی ٹوین ٹاور حملوں کا جھوٹا الزام, القاعدہ پر لگائے کیسے عالمی, اقوام متحدہ کو آلہ کار بنا, عالمی حربی قوتوں کا مشترکہ محاذ بنائے, عرب ممالک و خصوصا” اسلام کے نام معڑض وجود,عالم انسانیت کی اولین مسلم مملکت,ایٹمی قوت پاکستان کو, اپنے عالمی حربی اتحاد کا حصہ بنائے,کیسے براہ راست پہلے, اولین مسلم مجاہدین پہلی حنفی مملکت افغانستان پر, پھر عراق و لیبیا شام پر براہ راست یلغار کئے, انہیں تاراج کئے,خالق کائینات کے ان ممالک کو دئیے من و سلوی پیٹرول و معدنیاتی دولت پر آپنا حق جمائے, اسکا استعمال سابقہ پچیس تیس سال سے کرتے آئے ہیں,
یہ سب اظہر من الشمس کی طرح سب کے سامنے ہے۔ اس سےپرے اپنے تفکری ایجنٹ, عرب ممالک, یو اے ای سعودی عربیہ کو آگے کئے, انہیں اپنا پورا حربی تعاون دئیے, انکے ذریعہ سے, سومالیہ سوڈان یمن و لیبیا لبنان کی مسلم حربی قوتوں کو کیسے تاراج کیا گیا ہے یہ ارباب حل و عقل و فہم و ادراک, مسلم امہ سے مخفی نہیں رہا پے۔ فلسطین و یمن لبنان و شام کے مجاہدین اسلام کی حربی مدد و نصرت کرتے ایران کی تاراجی بعد, دوسرے نمبر, والی خلافت عثمانیہ ترکیہ, یمن و لبنان کی جہادی تنظیموں کی سرکوبی بعد, پہلےسےانکی جی حضوری کرتے,یواے ای سعودیہ کویت جارڈن و بحرین کو حاشیے پر رکھے, مسلمانوں کے متبرک ترین شہر مدینہ منورہ سے نوے تا سو میل کے قریب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے غزوہ خیبر (7ھ/628ء) کے دوران, قلعہ قموص (Qamus) فتح جو انہوں کیا تھا،
اور جو خیبرکے یہودیوں کا سب سے مضبوط اور مرکزی قلعہ تھا۔ اس معرکے میں حضرت علی نے مرحب نامی یہودی پہلوان کو شکست دئیے اور قلعے کا بھاری دروازہ اکھاڑ کر اسے فتح کیا تھا۔ اس قلعہ خیبر تک اپنی سرحدیں پھیلاتے مصر و شام و لبنان کی بیشتر زمینوں کے ساتھ اب والے جارڈن و فسلطین کی پوری مملکت سمیت گریٹر اسرائیل بنانے والی یہود و نصاری,عالم اسلام دشمن سازش کنان کی حربی حکمت عملی کا حصہ ہی, یہ اسرائیل و امریکہ کی ایران پر حربی یلغار ہے۔ گویا اہل بیت پر اپنے نازیبا گفتاری و عملی نازیبا حرکات کرتے اپنے معمولی ایمان باوجود,اپنے اعلی ترین جہادی جذبات سرشار, اس شیعہ ملک ایران نے ,عالم یہود و نصاری اسلام دشمنان کے گریٹر اسرائیل قائم کرتے,
مسلم امہ عالم کے ساتھ ہی ساتھ عالم انسانیت کو, اپنےزیر نگیں بنانے کی جو سازش رچی گئی تھی اسے ایران ہی نے درپردہ روس و چائینا کے حربی امداد سے اکیلے ہی لڑتے ہوئے, سرخرو ہوکر, گویا عالم اسلام و انسانیت کو یہود و نصاری تفکری غلبے سے نجات و آمان دلائی ہے۔ اس کے لئے ہمیں اپنے ایرانی بھائیوں کا دل کی گہرائیوں سے نہ صرف مشکور ہونا چاہئیے بالکہ ان شیعہ ایرانیوں میں موجزن جہادی جذبات کو, مکمل حکمت عملی کے ساتھ, سنی مسلمانوں میں اسے سرایت کر لئے جاتے, اپنے اطراف والے مشرکوں سے نبزد آزما ہونے کی سکت پیدا کر لینی چاہئیے۔
ابھی اس ایران پر تھوپی گئی
جنگ دوران اسرائیلی پارلیمنٹ نے جو قانون اکثریت سے پاس کئے, اسے اسرائیلی قانوں بنایا تھا, اسکی رؤ سے اسرائیلی جیلوں میں بند,بقول انکے انکی افواج پر پھتر مار دہشت گردی کرتے پکڑے گئے تمام گیارہ ہزار کے قریب فلسطینی قیدی جو تھے, اب اس نئے قانون مطابق انہیں پھانسی والی موت جو دی جانی تھی اب ایران نے اپنے پاس موجود حالیہ جنگ دوران زیر حراست امریکی چند قیدیوں کے بدلے, دس ایک ہزار سزائے موت پائے فلسطینیوں کو بالکیہ آزادی دلواتے ہوئے , ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو ایک نئی آزادانہ زندگی جینے کا سنہرا موقع عنایت کردیا ہے۔
“کچھ امریکی قیدیوں کے بدلے دس ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی”
“خود کے اقدار و اسرائیل کو بچاتی, ایران پر تھوپی گئی جنگ کے اخراجات, عرب ممالک سے بزور قوت اوصول کرنا, آخر کس جمہوری یا دوسرے کوئی اقدار سے بھی صحیح لگتا ہے”
حالیہ ایران اسرائیل و امریکہ جنگ, اتحادی یہود و نصاری افواج پسپائی اور بعد والے احوال پس منظر کو دیکھتے ہوئے اور خصوصآ” اب کھل کر ترکیہ سعودیہ کے ایران چین روس نارتھ کوریا حربی پالے میں آنے,ان کے اعلان بعد, ایک طرف, جہاں ہمیں ماقبل, اس حرب ایران, اسرائیل امریکہ میں, پہلے ہی سے سعودیہ کا اندروں خانہ ایران کے ساتھ ہونے کے اشارے دیتا ہے بالکہ اب فرنٹ فوٹ پر آئے, اپنے آپ کو ایران کی ہم نوائی اعلان کئے جاتے عمل نے, سعودی عربیہ کے, عنقریب پٹرو ڈالر عقد منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے, اس حرب بعد امریکی معشیت تاراج کرنے کے اشارے دے رہا ہے۔ مطلب صاف ہے,
نوئے کے دہے میں سکوت یو ایس ایس آر بعد, صاحب امریکہ اکلوتی سوپر قوت ہوتے ہوئے, جس طرح سے عالم انسانیت پر خصوصا” عالم عرب پر دندناتا اور عرب ممالک کے انکے اپنے ریسورسز کو لوٹتا پھرتا تھا, عالمی چودھراہٹ پر اب چھتیس ساتیس سال اور زیادہ سے زیادہ مستقبل قریب کے کچھ سالوں بعد, عالم انسانیت پر اپنی چودراہت نصف صد سال اختتام سے پہلے صاحب امریکہ یو ایس ایس آر کی طرح ٹوٹتے بکھرتے,یو ایس اے کے باون ازاد ممالک عالمی نقشہ پر معرض وجود میں آتے دکھتے اثار لگ رہے ہیں۔ کچھ بھی ہو, اس مثل مشہور مصداق, اللہ جو کچھ کرتا ہے انسانیت کی بھلائی ہی کے لئے ہوتا ہے
یہ سچ ہوتا نظر آرہا ہے۔ ہرمز راہ داری پر لگا اب والا ٹول ٹیکس اور اس جنگ کے مرحلے ثانی میں یمن کے متاثر کن رول بعد, اسرائیل امریکہ بمع ایران و یمن اور اسکے حواریوں درمیان آخری جنگ بندی معاہدے بعد, باب المندب سے گزرتے جہازوں پر بھی ٹول ٹیکس لگائے جاتے, ایران و اومان کے ساتھ, یمن و اسکے سامنے والے افریقی ممالک ڈیجیبؤتی اور ایریٹیریا بھی, ان ٹول ٹیکس اوصولی آمدن سے, خوب تر ترقی پزیر ہوتے پائے جائیں گے انشاءاللہ۔ ایران کے ہاتھوں صاحب امریکہ کییہ درختوں دیکھ مختلف افریقی ملکوں پر مالکانہ حق جمائے انکے ریسورسز کو لوٹتے افریقی مسلم ممالک بھی اپنے فرضی یورپی آقاؤں کی غلامی سے آزاد ہوئے اس آنے والیسو سال میں خوب ترقی پزیر ہوتے پائے جائیں گے۔انشاءاللہ ۔
بعد سکوت استبول خلافت عثمانیہ ابھی سو سال ہی پورے ہوئے ایک دو سال نہیں گزرے ہیں ان سو سالوں دوران یہود ونصاری یورپ و امریکی جمہوری اقدار نے, امت مسلمہ کو جتنا بھی کچھ نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیل امریکہ مشترکہ ایران پر کئے اس حربی یلغار بعد, امریکی اقدار, ھیجے منی ختم ہوتے پس منظر میں, سنی شیعہ اتحاد عرب وفارس حکومتیں, اپنے والی خلافت عثمانیہ ترکیہ کے سرپرستی میں,مسلم اتحاد کے ساتھ,عالم انسانیت پر معشیتی و حربی, خلافتی حکومتی متبادل پیش کرتے ہوئے,جمہوریت سے, ہر حال میں بہتر اسلامی خلافت ثابت کرنے کامیاب رہیں گے۔انشاءاللہ
اہلِ سنت کے مقدسات اور جناب آیت اللہ خامنہ ای علیہ الرحمہ کا فتویٰ
’’برادرانِ اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے چہ جائیکہ بالخصوص زوجۂ رسولؐ پر تہمت لگائی جائے, جس سے ان کے شرف و عزت پر حرف آتا ہو۔ بلکہ تمام انبیاءؑ کی خصوصاً سید الانبیاؐ کی ازواج کی توہین ممنوع ہے۔‘‘
اس کی کچھ تفصیلات دہلی سے شائع ہونے والے جریدے سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نے ۱۶ اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں اور اسلام آباد سے شائع ہونے والے اہل تشیع کے جریدہ ماہنامہ
’’پیام‘‘ نے نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع کی ہیں۔ ماہنامہ پیام کی رپورٹ کے مطابق یہ فتویٰ یوں ہے کہ
سہ روزہ دعوت دہلی نے یہ فتویٰ اس طرح نقل کیا ہے کہ جناب خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ’’ہمارے سنی بھائیوں کی علامتوں اور مقدسات کی توہین و تحقیر بالخصوص رسول اکرمؐ کی ازواج پر تہمت باندھنا جو ان کے شرف میں خلل پڑنے کا باعث ہو نہ صرف حرام ہے۔ بلکہ یہ امر تمام انبیاء کی ازواج اور خاص طور پر ان کے سردار و سرور رسولِ اعظمؐ کی زوجات کے لیے محال ہے۔‘‘
اس کا پس منظر یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ کوئی صاحب خود کو شیعہ رہنما ظاہر کرکے, ویب سائٹ پر ام المومنین حضرت عائشہؓ کے بارے میں بطور خاص ہرزہ سرائی کر رہے ہیں جس سے مختلف ممالک میں ہیجان کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ اس پر جناب خامنہ ای سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس سلسلہ میں باقاعدہ فتویٰ جاری کیا ہے جس کی بہت سے دیگر شیعہ اکابر نے بھی تائید کی ہے اور شیخ الازہر سمیت عالم اسلام کے متعدد سنی رہنماؤں اور حکومت کویت نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
ہمارے خیال میں جناب خامنہ ای کا یہ فتویٰ بہت اہم اور بروقت ہے جس سے ایسے لوگوں کی زبانوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی جو حضرات صحابہ کرامؓ اور امہات المومنینؓ کے بارے میں نازیبا الفاظ اور لہجہ اختیار کر کے اہل سنت کے جذبات کو مجروح کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس فتویٰ سے ان سنجیدہ اور صاحبِ علم شیعہ رہنماؤں کو بھی حوصلہ ملے گا جو باہمی رواداری اور امن و مصالحت کے فروغ کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔
“اہل تشیع کے عقائد کے خلاف حرمت اہل بیت پر آیت اللہ خامنہ ای علیہ الرحمہ کا فتوہ”