پاکستان طاقت تدبر اور اتحاد کی ایک زندہ حقیقت
تحریر نعیم الحسن نعیم
دنیا ایک بار پھر غیر یقینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑی طاقتوں کی رسہ کشی خطے میں بدلتے اتحاد اور سوشل میڈیا پر پھیلتی افواہیں یہ سب مل کر ایسا ماحول بنا دیتے ہیں جہاں قیاس آرائیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ انہی دنوں ایک تاثر گردش کرتا دکھائی دیتا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی تو شاید اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے یہ تاثر جذبات کو تو ابھار سکتا ہے
مگر حقیقت کے پیمانے پر پورا نہیں اترتا۔پاکستان کوئی کمزور تنہا یا غیر مستحکم ریاست نہیں جسے آسانی سے نشانہ بنایا جا سکے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ایک منظم دفاعی ڈھانچہ رکھتا ہے متحرک سفارت کاری کا حامل ہے اور سب سے بڑھ کر 25 کروڑ باشعور شہریوں کا ملک ہے جو اپنے وطن کے دفاع اور وقار پر یقین رکھتے ہیں۔
طاقت کا مفہوم ہتھیار نہیں توازن ہوتا ہے.
قومی طاقت کا مطلب صرف میزائل ٹینک یا جنگی طیارے نہیں ہوتے۔ اصل طاقت تین ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے دفاعی صلاحیت سفارتی توازن
داخلی اتحاد پاکستان کے پاس یہ تینوں عناصر موجود ہیں۔
ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی حیثیت سے پاکستان کی دفاعی پالیسی ہمیشہ قابلِ اعتبار دفاع پر مبنی رہی ہے۔ یعنی ایسی صلاحیت جو کسی بھی ممکنہ جارح کو پہلے ہی مرحلے پر سوچنے پر مجبور کر دے۔ یہی دفاعی توازن خطے میں بڑے تصادم کو روکے ہوئے ہے۔عالمی سیاست میں براہِ راست حملہ کبھی بھی پہلا آپشن نہیں ہوتا خاص طور پر جب سامنے ایک ایسی ریاست ہو جو جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہو۔
اس لیے یہ سمجھنا کہ کوئی ملک پاکستان پر کھلی جارحیت کی غلطی آسانی سے کر سکتا ہے حقیقت سے بعید ہے۔ جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں طاقت کا توازن ایک زندہ اور سنجیدہ حقیقت ہے اور اسی حقیقت نے ماضی میں بھی بڑے تصادم کو روکا ہے۔
ماضی کے کشیدہ لمحات سبق کیا ہے؟ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تاریخ میں کئی بار کشیدگی بڑھی۔ سرحدی تناؤ فضائی جھڑپیں سفارتی بحران یہ سب لمحاتی طور پر فضا کو گرم کرتے رہے۔ مگر ہر بار انجام یہی ہوا کہ فریقین نے یہ تسلیم کیا کہ مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔خطے میں طاقت کا توازن عالمی دباؤ اور ممکنہ نتائج کی سنگینی یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے حساب میں آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر جنگ کے امکانات ہمیشہ محدود رہے ہیں۔ یہی اصول کسی اور ممکنہ تصادم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسرائیل ہو یا کوئی اور ملک کسی بھی ریاست کے لیے پاکستان جیسے ملک کے خلاف براہِ راست اقدام ایک سادہ یا فوری فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ یہ جذباتی بیانیہ ہو سکتا ہے، مگر اسٹریٹیجک حقیقت نہیں. افغانستان مسئلہ قوم نہیں دہشت گردی ہے
پاکستان کا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی ثقافتی اور تاریخی رشتے موجود ہیں۔ لاکھوں افغان شہریوں نے پاکستان میں پناہ پائی تعلیم حاصل کی کاروبار کیا اور دہائیوں تک یہاں زندگی گزاری۔
مسئلہ صرف ایک ہے دہشت گردی۔اگر کسی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جائے اگر کالعدم تنظیمیں پناہ گاہیں بنائیں اگر پاکستانی شہریوں اور افواج پر حملوں کی ذمہ داریاں سرحد پار سے قبول کی جائیں تو ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ کارروائی کرے۔یہ کارروائیاں کسی قوم کے خلاف نہیں ہوتیں۔ یہ مخصوص دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ہوتی ہیں.ایک ذمہ دار ریاست اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغان عوام ہمارے بھائی ہیں مگر دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا
کہ وہ شدت پسند عناصر کے ساتھ کھڑی ہوگی یا خطے کے امن کے ساتھ۔سفارت کاری خاموش مگر مؤثر طاقت ہے. پاکستان کی خارجہ پالیسی توازن پر مبنی ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات ہوں یا خلیجی ممالک کے ساتھ روابط چین اور روس کے ساتھ شراکت داری ہو یا مغربی دنیا سے مکالمہ پاکستان نے ہمیشہ ایک محتاط اور مدبر راستہ اختیار کیا ہے۔ایران ترکی آذربائیجان سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں ایک سنجیدہ اور اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نہ کسی بلاک کا اندھا حصہ ہے نہ کسی تصادم کا خواہشمند۔ وہ استحکام تجارت اور علاقائی امن کا حامی ہے۔
یہ سفارتی توازن ہی اصل طاقت ہے۔ کیونکہ جنگیں صرف میدان میں نہیں جیتی جاتیں میز پر بھی جیتی جاتی ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بیرونی حملوں سے کم اندرونی انتشار سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔پاکستان کو میزائلوں سے زیادہ خطرہ داخلی تقسیم لسانی تعصب مذہبی انتہا پسندی سیاسی نفرت اور معاشی مایوسی سے ہے۔ دشمن اگر کبھی کمزوری تلاش کرے گا تو وہ سرحد پر نہیں اندر تلاش کرے گا۔
اسی لیے آج سب سے اہم ہتھیار اتحاد ہے۔سب سے مضبوط ڈھال قومی یکجہتی ہے۔ سب سے بڑا دفاع اداروں پر اعتماد ہے۔اختلاف رائے جمہوری حق ہے مگر اختلاف کو انتشار میں بدل دینا قومی نقصان ہے۔ تنقید ضرور کریں مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ سوال اٹھائیں مگر ریاستی مفاد کو سامنے رکھ کر۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت جارحیت کا اعلان نہیں بلکہ جنگ کو روکنے کا ذریعہ ہے۔ ڈیٹرنس کا مطلب یہی ہے کہ دشمن حملے سے پہلے سو بار سوچے۔
ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی حیثیت سے پاکستان بین الاقوامی اصولوں اور احتیاطی تدابیر کا پابند ہے۔ یہی ذمہ داری اسے عالمی برادری میں ایک سنجیدہ ملک کے طور پر پیش کرتی ہے۔کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ ان کی ریاست بیدار ہے ان کے ادارے مضبوط ہیں اور قیادت کو حالات کا ادراک ہے تو افواہیں اثر کھو دیتی ہیں۔
آج 25 کروڑ پاکستانیوں کے دل میں یہ یقین موجود ہے کہ یہ ملک کمزور نہیں۔ مشکلات آئیں دہشت گردی کا دور آیا معاشی دباؤ آیا مگر پاکستان کھڑا رہا۔
یہ استقامت ہی اصل طاقت ہے۔اج سوشل میڈیا کے دور میں شعور کی ضرورت ہے.
آج ہر ہاتھ میں موبائل ہے ہر شخص تجزیہ نگار ہے۔ مگر ہر خبر سچ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات حب الوطنی کے نام پر ایسے بیانیے پھیل جاتے ہیں جو حقیقت سے زیادہ جذبات پر مبنی ہوتے ہیں۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی کے معاملات سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ غیر مصدقہ دعوے غیر ضروری اشتعال اور مبالغہ آرائی صرف فضا کو مزید کشیدہ کرتی ہے۔
حب الوطنی شور مچانے کا نام نہیں استحکام کا نام ہے ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا اندھی تقلید نہیں بلکہ ذمہ دار اعتماد ہے۔پیغام واضح ہےپاکستان جنگ نہیں چاہتا پاکستان تصادم نہیں چاہتا۔
پاکستان خطے میں استحکام، تجارت اور ترقی چاہتا ہے۔ مگر پاکستان اپنی خودمختاری سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا
۔جو ہمیں کمزور سمجھتے ہیں وہ ہماری تاریخ دیکھ لیں۔جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ ہماری قومی یکجہتی کا اندازہ کر لیں۔. جو ہمیں خوفزدہ سمجھتے ہیں وہ ہمارے عزم کو پرکھ لیں۔یہ ملک نظریے پر قائم ہے۔یہ ریاست توازن پر کھڑی ہے۔یہ قوم اعتماد سے جیتی ہے۔اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے ہمارے محافظوں کو سلامت رکھے اور ہمیں داخلی اتحاد حکمت اور استحکام کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان زندہ و پائندہ باد۔

