Site icon FS Media Network | Latest live Breaking News updates today in Urdu

افغان سر حدی پر جوابی کاروائی !

قومی بقاکا سوال ہے !

افغان سر حدی پر جوابی کاروائی !

ملک میں دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک واقعے کے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہیں، گزشتہ روز فتنہ الخوارج کا حملہ میں پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوئے‘ اس کی کڑی بھی افغانستان سے ملتی ہے، یہ صورتحال غیر معمولی تشویش کاموجب ہے،اس کو آخرکب تک برداشت کیا جاسکتا ہے،پا کستان کی برداشت کا پیمانہ لبر یز ہوتا جارہا ہے ،

افغان طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے جواب میں پاکستان نے پاک افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے 7 ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بناتے ہوئے ملیا میٹ کر دیاہے۔پاکستان ہمیشہ سے ہی اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ خلوص پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کا خواہش مند رہا ہے، مگر اس کاکبھی مثبت جواب نہیں آیاہے، افغانستان میں جب امریکی قیادت میں مغربی افواج مسلط تھی، اس وقت بھی مغربی ہمسائے کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی اور غیر ملکی افواج کے چلے جانے کے بعد جب بظاہر اقتدار افغانوں کے اپنے ہاتھوں میں آیا تو بھی صورتحال بدستور ویسی ہی رہی ہے ،بلکہ طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد دہشت گردی کے واقعات پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر تے چلے جارہے ہیںتو اس کا کوئی سد باب کر نا ہی ہو گا اور اس کے سامنے کوئی بند باندنا ہی ہو گا۔
گزشتہ دور میں مسلح افواج کی انتہائی کوششوں سے پاک افغان سرحد پر قبائلی پٹی کو انتہا پسندوں سے صاف کر دیا گیا تھا، مگر طالبان رجیم کی واپسی کے بعد دہشت گردوں کے اڈے سرحد پار فعال ہو نے کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے ،جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی اور بقا کا سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور عالمی سطح پر بھی تاثر جارہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہاہے،اس کے ساتھ معیشت اور قومی سلامتی کا قیام امن سے بڑا گہرا تعلق ہے ،اس بد امنی کے ماحول میں ملک میں کون آئے گا اور کون انویسٹ منٹ کرے گا ،یہ آئے روز دہشت گردی کے واقعات ملک کے مثبت تشخص کو قائم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا سبب بن ر ہے ہیں۔
یہ بات افغان حکو مت بخوبی جانتی ہے ،اس کے باوجود سنجیدگی نہیں دکھائی جارہی ہے ،جبکہ پا کستا ن پرانے تعلق کا لحاظ کرتے ہوئے سخت کاروائی سے اجتناب کرتا آرہا ہے ،حالانکہ پاکستا ن کو اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کا اختیار اقوام متحدہ کا چارٹر بھی دیتا ہے، اس کا آرٹیکل 51 کہتا ہے

کہ اگر اقوام متحدہ کے کسی رکن پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اس چارٹر میں کوئی بھی چیز‘ انفرادی یا اجتماعی‘ دفاع کے بنیادی حق کوختم نہیں کرے گی،اس کے باوجود پا کستان نے اب تک بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، لیکن اب براشت جواب دیے گئی ہے تو اپنے حق کا استعمال بنتا ہے ، اس لیے ہی دہشت کردی کے بڑھتے واقعات اور افغان حکو مت کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کے باعث سخت جوابی کاروائی کا سوچا گیا گیا ہے ۔
پا کستان کی کبھی افغانستان کے خلاف کاروائی کی خواہش نہیں رہی ہے، مگر اس کے برعکس ہی ہوا ہے، افغانستان آج پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہی نہیں بنا ، بلکہ پاکستا ن کے دشمنوں کا آلہ کار بھی بن چکا ہے ،پا کستان میںآئے روز دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور ان میں سے ہر ایک واقعے کا سرا افغانستا ن سے جا ملتا ہے ،اس صورتحال کو کب تک نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور کب تک برداشت کیا جاسکتا ہے؟

اس لیے افغا نستان میں موجود شر پسند عنا صر کو نشانہ بنایا گیا ہے ،پاکستانی فورسز نے طالبان کی اُن متعدد پوسٹوں، کیمپوں، ہیڈکوارٹرز اور شدت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ،جو کہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہا تھا،اگر اس کے بعد بھی کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے بھی سخت جواب دیا جائے گا۔
پا کستان اپنے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے ، مگر بھارت اور افغانستان کو گٹھ جوڑ خطے کے امن کو بر باد کر نے پر تلا ہوا ہے ، بھارت اور افغان حکو مت کی پشت پناہی میں طالبان پا کستا ن میں دہشت گرادانہ کاروائیاں کررہے ہیں ،اس کے خلاف سخت جوابی کاروائی کرتے ہوئے ایک بار پھر افغان عبوری حکومت پر زور دیا گیاہے

کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی اور ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے ،ورنہ بات بہت آگے بڑھ سکتی ہے ، پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے، تاہم اپنے شہریوں کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے، پا کستا ن نے عالمی برادری پر بھی زور ڈالا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر دوحا معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالے، کیونکہ افغان سرزمین کا دیگر ممالک کے خلاف استعمال علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے آئندہ سنگین خطرہ بھی بن سکتا ہے۔

Exit mobile version