راٹھوعہ ہریام برج — آزاد کشمیر کی ترقی کا تاریخی سنگِ میل اور نئے دور کی شروعات
تحریر جاوید اقبال بٹ
آزاد کشمیر کی ترقی کی داستان میں راٹھوعہ ہریام برج ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ پل محض کنکریٹ، سریا اور انجینئرنگ کا شاہکار نہیں بلکہ یہ عوامی صبر، مسلسل جدوجہد اور اجتماعی شعور کی ایک روشن علامت ہے۔ دو دہائیوں پر محیط انتظار کے بعد جب یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچ رہا ہے تو اس کے اثرات صرف سفری سہولت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی معاشی، سماجی اور تجارتی سمت کو بدل دیں گے 2004 میں اس منصوبے کا آغاز بڑے خواب اور بلند دعوؤں کے ساتھ کیا گیا
آزاد کشمیر کی ترقی کی داستان میں راٹھوعہ ہریام برج ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ پل محض کنکریٹ، سریا اور انجینئرنگ کا شاہکار نہیں بلکہ یہ عوامی صبر، مسلسل جدوجہد اور اجتماعی شعور کی ایک روشن علامت ہے۔ دو دہائیوں پر محیط انتظار کے بعد جب یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچ رہا ہے تو اس کے اثرات صرف سفری سہولت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی معاشی، سماجی اور تجارتی سمت کو بدل دیں گے 2004 میں اس منصوبے کا آغاز بڑے خواب اور بلند دعوؤں کے ساتھ کیا گیا
تھا۔ مقصد یہ تھا کہ میرپور اور اسلام گڑھ کے درمیان ایک براہِ راست اور مختصر راستہ فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو طویل اور دشوار سفر سے نجات مل سکے۔ لیکن 2016 میں جب تقریباً 90 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا، اچانک اس منصوبے پر کام رک گیا۔ ادھورا پل عوام کے لیے ایک سوال بن گیا۔ ہر گزرتا دن اس احساس کو گہرا کرتا رہا کہ ترقی کے خواب کو سیاسی و انتظامی غفلت کی نذر کر دیا گیا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کی بحالی کے لیے آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ عوامی تحریک، سول سوسائٹی، اوورسیز کشمیریوں اور مقامی صحافیوں نے مسلسل اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ بالآخر آزاد کشمیر میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم انوار الحق کے دور میں عملی پیش رفت ممکن ہوئی اور2024 میں اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع ہوا۔ یہ فیصلہ دراصل عوامی دباؤ اور سنجیدہ حکومتی توجہ کا نتیجہ تھا۔
راٹھوعہ ہریام برج کی تکمیل کے بعد اسلام گڑھ اور میرپور کے درمیان فاصلہ تقریباً 28 کلومیٹر سے کم ہو کر محض 7 کلومیٹر رہ جائے گا۔ یہ کمی بظاہر چند اعداد کا فرق محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوں گے۔ روزانہ سفر کرنے والے طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، تاجر برادری اور مریضوں کے لیے یہ ایک بڑی سہولت ہوگی۔ ایندھن کی بچت، وقت کی بچت اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی براہِ راست عوامی ریلیف کا سبب بنے گی۔
معاشی اعتبار سے یہ منصوبہ ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ میرپور اور اسلام گڑھ کے درمیان تجارتی روابط میں اضافہ ہوگا، منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔ زمینوں اور جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ، نئی رہائشی سکیموں کا قیام اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔ سیاحت کے شعبے میں بھی یہ پل نئی راہیں کھولے گا اور مقامی معیشت کو مستحکم کرے گا۔
اس اہم منصوبے کی تکمیل میں وزیر حکومت چوہدری قاسم مجید، سابق مشیر حکومت کرنل ریٹائرڈ محمد معروف اور سابق امیدوار اسمبلی محمد نذیر انقلابی کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے مختلف فورمز پر اس منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کی بحالی کے لیے کوششیں کیں۔
حکومتی اعلان کے مطابق 14 اگست یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اس تاریخی منصوبے کا افتتاح کریں گے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کی بحالی کے لیے آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ عوامی تحریک، سول سوسائٹی، اوورسیز کشمیریوں اور مقامی صحافیوں نے مسلسل اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ بالآخر آزاد کشمیر میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم انوار الحق کے دور میں عملی پیش رفت ممکن ہوئی اور2024 میں اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع ہوا۔ یہ فیصلہ دراصل عوامی دباؤ اور سنجیدہ حکومتی توجہ کا نتیجہ تھا۔
راٹھوعہ ہریام برج کی تکمیل کے بعد اسلام گڑھ اور میرپور کے درمیان فاصلہ تقریباً 28 کلومیٹر سے کم ہو کر محض 7 کلومیٹر رہ جائے گا۔ یہ کمی بظاہر چند اعداد کا فرق محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوں گے۔ روزانہ سفر کرنے والے طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، تاجر برادری اور مریضوں کے لیے یہ ایک بڑی سہولت ہوگی۔ ایندھن کی بچت، وقت کی بچت اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی براہِ راست عوامی ریلیف کا سبب بنے گی۔
معاشی اعتبار سے یہ منصوبہ ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ میرپور اور اسلام گڑھ کے درمیان تجارتی روابط میں اضافہ ہوگا، منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔ زمینوں اور جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ، نئی رہائشی سکیموں کا قیام اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔ سیاحت کے شعبے میں بھی یہ پل نئی راہیں کھولے گا اور مقامی معیشت کو مستحکم کرے گا۔
اس اہم منصوبے کی تکمیل میں وزیر حکومت چوہدری قاسم مجید، سابق مشیر حکومت کرنل ریٹائرڈ محمد معروف اور سابق امیدوار اسمبلی محمد نذیر انقلابی کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے مختلف فورمز پر اس منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کی بحالی کے لیے کوششیں کیں۔
حکومتی اعلان کے مطابق 14 اگست یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اس تاریخی منصوبے کا افتتاح کریں گے۔
یومِ آزادی پر اس پل کا افتتاح دراصل ترقی اور قومی یکجہتی کا پیغام ہوگا — ایک ایسا پیغام جو یہ بتائے گا کہ اگر نیت، عزم اور عوامی طاقت یکجا ہو جائیں تو تعطل کا شکار منصوبے بھی دوبارہ زندگی پا سکتے ہیں۔
راٹھوعہ ہریام برج آنے والی نسلوں کو یہ سبق دے گا کہ ترقی کا سفر آسان نہیں ہوتا، مگر مستقل مزاجی اور اجتماعی جدوجہد سے ہر رکاوٹ عبور کی جا سکتی ہے۔ یہ پل صرف دو کناروں کو نہیں ملائے گا بلکہ یہ ماضی کی محرومیوں اور مستقبل کی امیدوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرے گا۔
یہ منصوبہ آزاد کشمیر کے لیے ایک نئے دور کی ابتدا ہے — ایک ایسا دور جہاں فاصلے کم ہوں گے، مواقع بڑھیں گے اور ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
راٹھوعہ ہریام برج آنے والی نسلوں کو یہ سبق دے گا کہ ترقی کا سفر آسان نہیں ہوتا، مگر مستقل مزاجی اور اجتماعی جدوجہد سے ہر رکاوٹ عبور کی جا سکتی ہے۔ یہ پل صرف دو کناروں کو نہیں ملائے گا بلکہ یہ ماضی کی محرومیوں اور مستقبل کی امیدوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرے گا۔
یہ منصوبہ آزاد کشمیر کے لیے ایک نئے دور کی ابتدا ہے — ایک ایسا دور جہاں فاصلے کم ہوں گے، مواقع بڑھیں گے اور ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
https://www.youtube.com/watch?v=iBfs6rEAeco

