48

دیہی پنجاب کی ترقی کا روشن افق !

دیہی پنجاب کی ترقی کا روشن افق !

دنیا بھر میںکسی معاشرے کی حقیقی پائیدار ترقی ادھوری رہتی ہے ،جب تک کہ اس کی نصف آبادی خواتین کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل نہ کیا جائے، پاکستان بالعموم اور ہمارا دیہی پنجاب بالخصوص ایک طویل عرصے سے ایسے ہی مائنڈ سیٹ کا شکار رہا ہے کہ جہاں خواتین کی صلاحیتوں کو چار دیواری تک ہی محدود سمجھا جاتا ہے،لیکن اس جمود کو توڑنے اور دیہی خواتین کو معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے جو اقدامات آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں،اس میں پنجاب حکومت کا نیا فلیگ شپ پروگرام ”شی تھریڈز پراجیکٹ’ نمایاں ہے، اس کیلئے 310 ملین روپے کا خطیر بجٹ مختص کیاگیا ہے، تاہم کسی بھی اچھے حکومتی منصوبے کی طرح، اس پراجیکٹ کی زمینی کامیابی کا دارومدار صرف نعروں پر نہیں ،بلکہ اس کے شفاف اور حقیقت پسندانہ طریقہ کار پر ہی ہو پائے گا ۔
اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل سیکٹر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ واحد شعبہ ہے کہ جہاں خواتین کے لیے روزگار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں،اس صلاحیت کو ہی بھانپتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ’’شی تھریڈز‘‘ کے نام سے اپنی نوعیت کاایک منفرد پراجیکٹ شروع کیا ہے، اس کے لیے حکومت نے 310 ملین روپے کا خطیر بجٹ مختص کیا ہے ،لیکن اس پر سوال اُٹھتا ہے کہ اتنے بڑے بجٹ کی موجودگی میں ابھی تک پنجاب کے صرف چند مخصوص اضلاع تک ہی محدود کیوں ہے؟ پنجاب کے دور دراز اور پسماندہ اضلاع، جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے، ابھی تک فنڈنگ کے ثمرات سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔
اس پرسیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصاً ہدایت پر پنجاب بھر میں پراجیکٹ کا حصہ بننے والی خواتین کے لیے 15,000 روپے ماہانہ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس مقرر کیا گیا ہے ،یہ مالی معاونت دیہی خاندانوں کے لیے ً ایک بڑا حوصلہ ہے، صوبہ بھر کے دیہات سے تعلق رکھنے والی 18 سے 45 سال کی تمام خواتین جو مڈل پاس ہیں، اس پراجیکٹ کا حصہ بن سکتی ہیں،پروگرام کے تحت ٹیکسٹائل سیکٹر کی جدید ترین مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے 10 مختلف تربیتی ٹیکسٹائل کورسز کرائے جارہے ہیں، اس کے پہلے مرحلے میں کورسز لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور فیصل آباد جیسے بڑے صنعتی شہروں میں کامیابی سے جاری ہیں،

اس میں اب تک 2 سال میں ڈھائی ہزار سے زائد خواتین ٹریننگ کورسز مکمل کر چکی ہیں۔
ہمارے ہاں جب بھی کوئی نیا منصو بہ شروع کیا جاتا ہے تو اس کے تصاد پہلوں کو نہیں دیکھا جاتا ہے ، اس منصو بے میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے ، یہ منصوبہ ”دیہی خواتین” کے لیے ہے، لیکن اس کے تربیتی مراکز لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے بڑے شہری اور صنعتی مراکزمیں قائم کیے گئے ہیں، ایک دیہی اور پسماندہ علاقے کی مڈل پاس خاتون کے لیے، ٹرانسپورٹ الاؤنس کے باوجود، اپنے گاؤں سے نکل کر ان بڑے شہروں کے مراکز تک روزانہ آنا جانا یا وہاں قیام کرنا ،ایک بہت بڑا سماجی اور ثقافتی چیلنج ہے ،

ہمارے دیہی پنجاب کے قدامت پسند ماحول میں خاندان اکثر خواتین کو اتنی دور اکیلے سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں ، اس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ اس سہولت سے صرف وہی خواتین فائدہ اٹھا پاتی ہیں کہ جو ان صنعتی شہروں کے قریبی دیہات یا مضافات میں رہتی ہیں، جبکہ اصل دور دراز دیہی خواتین اب بھی دائرے سے باہر ہیں،حکومت کو چاہیے کہ وہ بڑے شہروں کے مراکز پر انحصار کرنے کے بجائے تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر موبائل ٹریننگ یونٹس قائم کرے ،تاکہ ہنر خود چل کر دیہی عورت کی دہلیز تک پہنچے ،دوسرا اہم چیلنج تربیتی کورسز کے بعد مستقلروزگار کی فراہمی کا ہے۔
یہ بات انتہائی خوش آئندہے کہ دو سالوں میں ڈھائی ہزار خواتین نے کورسز مکمل کرلیا ہے، لیکن ان میں سے کتنی خواتین کو مستقل اور باعزت روزگار ملا؟ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مالکان کے ساتھ حکومتی سطح پر ایسے معاہدے ناگزیر ہیں، جوکہ ان خواتین کو ٹریننگ کے فوراً بعد ملازمت اور کام کے محفوظ ماحول کی ضمانت دیں،اس منصوبے کے تحت محض وظیفہ دے کر کورس کروا دینا کافی نہیں، جب تک ان کے لیے انڈسٹری میں کوٹا مختص نہ کیا جائے یا انہیں گھر بیٹھے اپنے برانڈز بنانے کے لیے بلا سود چھوٹے قرضے نہ دیے جائیں،اس کے بغیر منصو بہ کا میاب نہیں ہو پائے گا۔
صو بہ پنجاب میںوزیراعلیٰ مریم نواز کا انقلابی قدم پنجاب کی تاریخ میں دیہی خواتین کی معاشی آزادی کا ایک اہم باب بن سکتا ہے،

مگر اس خواب کو مکمل تعبیر دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دائرہ کار کو بیوروکریسی کے سرخ فیتے اور چند مخصوص شہروں کی حدود سے نکال کر جنوبی اور مغربی پنجاب کے پسماندہ دیہات تک نہ صرف پھیلایا جائے، بلکہ سیاسی وابستگی سے بھی دور رکھا جائے ،اس پراجیکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جب تک دیہی معاشرت کے مطابق لچکدار نہیں بنایا جائے گااور سیاست سے بالادست نہیں رکھا جائے گا ،تب تک 310 ملین روپے کے اس خطیر بجٹ کے سو فیصد نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں